وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا خیبر پختونخوا میں منظور ہونے والے حالیہ متنازع بل پر شدید رد عمل۔ - Online Punjab

Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

Wednesday, 8 July 2026

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا خیبر پختونخوا میں منظور ہونے والے حالیہ متنازع بل پر شدید رد عمل۔

لاہور :  وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے خیبرپختونخوا اسمبلی سے اراکینِ اسمبلی کی مراعات سے متعلق منظور کیے گئے بل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بل رات کی تاریکی میں منظور کیا گیا اور عوام سے اس کی حقیقت چھپانے کی کوشش کی گئی۔ گزشتہ روز تک تحریک انصاف کے ترجمان اس بل کے وجود سے ہی انکار کرتے رہے، لیکن اب حقیقت سب کے سامنے آ چکی ہے۔ عوام کو گمراہ کرنا اور پھر اپنے مؤقف سے مکر جانا تحریک انصاف کی پرانی روایت ہے۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان یہ تاثر دیتے رہے کہ بلیو پاسپورٹ کی سہولت تمام صوبوں کے اراکین اسمبلی کو حاصل ہے، حالانکہ یہ سراسر غلط بیانی ہے۔ پنجاب میں اراکینِ اسمبلی کو صرف اپنی مدتِ رکنیت کے دوران محدود نوعیت کا سرکاری پاسپورٹ دیا جاتا ہے، جو صرف متعلقہ رکن کے لیے ہوتا ہے، اس کی فیملی اس سہولت کی حقدار نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ ٹول ٹیکس سے استثنا، سرکاری ریسٹ ہاؤسز میں اہلِ خانہ سمیت عیاشی، بلیو پاسپورٹس اور دیگر غیر ضروری مراعات عوام کے ٹیکس کے پیسے پر عیاشی کے مترادف ہیں۔ ماضی میں بلیو پاسپورٹ کے غلط استعمال کی مثالیں بھی سب کے سامنے موجود ہیں۔وزیر اطلاعات نے صحافیوں سے متعلق شق پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسمبلی میں صرف پسندیدہ صحافیوں کو داخلے کی اجازت دی جائے اور ناپسندیدہ صحافیوں پر پابندی لگائی جائے تو یہ آزادیِ صحافت پر سنگین حملہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب میں کبھی ایسا سوچا بھی جاتا تو تحریک انصاف اور ان کے جو ٹیومرز آسمان سر پر اٹھا لیتے، لیکن خیبرپختونخوا میں اس اقدام پر خاموشی اختیار کی جا رہی ہے۔عظمیٰ بخاری نے بل میں اراکین اسمبلی کے لیے اسلحہ لائسنسوں کی تعداد بڑھانے کی تجویز پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں اراکین اسمبلی کو صرف دو اسلحہ لائسنس کی اجازت ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں آٹھ کلاشنکوفوں کے لائسنس مانگے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ڈی ویپنائز کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ مزید اسلحہ عام کرنے کی۔ اسلام آباد میں حالیہ افسوسناک واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلحے کی آسان دستیابی معاشرے کے لیے کتنا بڑا خطرہ بن چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ آخر آٹھ کلاشنکوفوں کے لائسنس کس مقصد کے لیے درکار ہیں؟ کیا یہ ڈی چوک پر دھاوا بولنے یا کور کمانڈر ہاؤس جیسے حساس مقامات پر حملوں کے لیے ہیں؟ ایسے وقت میں جب خیبرپختونخوا پہلے ہی بدامنی اور دہشت گردی کا شکار ہے، حکومت کی ترجیح امن قائم کرنا ہونی چاہیے، نہ کہ اسلحہ کلچر کو فروغ دینا۔وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ اس بل کی سب سے خطرناک شق وہ ہے جس کے تحت اراکین اسمبلی کو گرفتاری، ایف آئی آر اور قانونی کارروائی سے استثنا دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر کوئی قانون ساز قانون شکنی کرے، جیل توڑے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچائے یا کسی حساس تنصیب پر حملہ کرے تو کیا اسے بھی قانون سے بالاتر سمجھا جائے گا؟ ایسی مراعات تو شاید مغلِ اعظم نے بھی اپنے لیے نہیں مانگی تھیں۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پاکستان کا آئین اس نوعیت کا استثنا صرف صدرِ مملکت کے لیے مخصوص کرتا ہے، وہ بھی آئینی حدود کے اندر۔ کسی صوبے کے اراکین اسمبلی کو قانون سے بالاتر قرار دینا آئین اور جمہوری اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، اس لیے اس قانون کو عدالت میں چیلنج کیا جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف ایک طرف اشرافیہ کے خلاف نعرے لگاتی ہے، جبکہ دوسری طرف خود اشرافیہ سے بھی بڑھ کر مراعات اپنے لیے حاصل کرنا چاہتی ہے۔ پندرہ برس سے خیبرپختونخوا میں حکومت کرنے کے باوجود نہ دہشت گردی پر قابو پایا گیا، نہ روزگار، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں نمایاں بہتری آئی، لیکن اس کے باوجود اپنے لیے بادشاہوں جیسی مراعات کا مطالبہ کھلی منافقت ہے۔

No comments:

Post a Comment

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages